Skip to main content

Digital Marketing

 

بازارِ حصص یا سٹاک مارکیٹ کیا ہے؟

عام فہم زبان میں یہ بازار کمپنیوں کے حصص یعنی شیئرز کی خرید و فروخت کی جگہ ہے۔ کسی بھی کمپنی کا ایک شیئر اس کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

فرض کریں ایک کمپنی کی مالیت 100 روپے ہے اور آپ نے اس کے 50 روپے کے شیئرز خرید لیے ہیں تو آپ اس کے 50 فیصد حصے کے مالک بن جائیں گے۔

یہاں موجود کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں اندراج شدہ یعنی ’لسٹڈ‘ پبلک لمیٹڈ کمپنیاں ہوتی ہیں۔

بازارِ حصص میں اندارج کے لیے ان کمپنیوں کو پیچیدہ مراحل اور چند شرائط پر پورا اترنا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 35 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 542 اندراج شدہ کمپنیاں ہیں۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے 400 کے قریب فعال رکن یعنی ’بروکرز‘ ہیں جن کے ذریعے مارکیٹ میں خرید و فروخت کا عمل چلایا جاتا ہے۔

بروکر دراصل سرمایہ کاری کرنے والوں کی جانب سے ضامن کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور بازار حصص میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آپ کو ایک بروکر کے پاس اکاؤنٹ کھلوانا ضروری ہوتا ہے۔

اسی اکاؤنٹ کے ذریعے رقم کی لین دین بھی ہوتی ہے اور شیئرز کی خرید و فروخت بھی۔

ان چند بروکرز کے اپنے بروکریج ہاؤسز ہوتے ہیں جہاں مختلف ٹریڈرز آپ کو شیئرز کی خرید و فروخت مختلف حکمت عملیوں کے حوالے سے معاونت دینے کے لیے آپ کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ تاہم آپ ایک ٹریڈر کی معاونت کے بغیر بھی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کا طریقہ کار

بازارِ حصص میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو کسی بھی فعال بروکر کے پاس اپنا اکاؤنٹ کھلوانا ہوگا۔

اس حوالے سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ پر بروکرز کی فہرست موجود ہے۔

یہ کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے جیسا ہی ہوتا ہے تاہم اس میں بروکر کے اعتبار سے مختلف دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح ابتدا میں جمع کروائی جانے والی رقم بھی بروکر کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

اکاؤنٹ کھلوانے کے بعد آپ کے پاس ’لیوریج‘ کا آپشن بھی ہوتا ہے۔ لیوریج دراصل بروکر اور سرمایہ کار کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت آپ ابتدا میں جمع کروائی گئی رقم کی بنا پر سرمایہ کاری کے لیے مزید رقم لے سکتے ہیں۔

تاہم اس کی واپسی بمعہ سود کرنی ہوتی ہے اور عام طور پر نئے سرمایہ کاروں کو لیوریج کی بنا پر سرمایہ کاری کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔

سنیچر، اتوار اور کسی بھی عام تعطیل کے علاوہ آپ مارکیٹ میں مقررہ اوقات کے دوران سٹاکس کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

ہر روز شیئرز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ایک جانب ٹریڈنگ ہے یعنی کم عرصے کے لیے تو دوسری جانب انویسٹنگ یا لمبے عرصے کے لیے سرمایہ کاری۔ فوری سٹاک ٹریڈ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنوں میں سٹاکس کی خرید و فروخت کریں۔ آپ ایک ہی دن میں کئی سٹاکس خرید بھی سکتے ہیں اور بیچ بھی سکتے ہیں۔

یہ زیادہ منافع بخش تو ضرور ہے لیکن خطرناک بھی ہے۔

اسی طرح اگر اچھی حکمتِ عملی کے ساتھ لمبے عرصے تک سرمایہ کاری یا سٹاکس ’ہولڈ‘ کیے جائیں تو یہ مستقبل میں منافع کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بڑی اور منافع کمانے والے کمپنیوں کے سٹاک طویل عرصے تک خریدنے سے ’ڈویڈینڈ‘ بھی ملنے کی امید ہوتی ہے۔ ڈویڈینڈ دراصل اس کمپنی کو ہونے والا منافع ہوتا ہے جو یا تو شیئر ہولڈرز میں تقسیم کر دیا جاتا یا کمپنی میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے سٹاکس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

یعنی آپ نے جس کمپنی کے سٹاکس خرید رکھے ہیں اگر اسے منافع ہوتا ہے تو آپ کو بھی اس کی وجہ سے منافع ہو گا کیونکہ اب آپ بھی اس کا حصہ ہیں، وہ یا تو ڈویڈنڈ کی صورت میں ہو گا، یا سٹاکس کی قیمت بڑھنے کی صورت میں۔

یہ ڈویڈینڈ کمپنی سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی دے سکتی ہے۔

وجوان سٹاک مارکیٹ میں کیوں سرمایہ کاری کریں؟

جہانزیب طاہر بتاتے ہیں کہ جب انھیں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیا گیا تو حالانکہ ان کی تنخواہ صرف 18 ہزار روپے ہی تھی لیکن انھیں یہی سب سے اچھی آپشن لگی۔

’پراپرٹی، سونا، کاروبار وغیرہ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آپ کو ایک خطیر رقم درکار ہوتی ہے جبکہ سٹاکس میں سرمایہ کاری کرنا بہت آسان بھی ہے اور چھوٹی رقم سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔‘

’میری حکمت عملی فی الحال ایک لمبے عرصے تک سٹاکس ہولڈ کرنا اور اپنا پورٹ فولیو بنانا ہے۔ یہ صبر کا کھیل ہے، مجھے بھی لالچ ہوتی ہے کہ میں ٹریڈ کروں لیکن مجھے معلوم ہے کہ میں ایک لمبی گیم کھیل رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ آپ کو نوکری کے علاوہ آمدن کا ایک دوسرا ذریعہ فراہم کرتی ہے اور فی الحال میری یہی حکمتِ ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بروکر کا کہنا تھا کہ سٹاک مارکیٹ کے ذریعے آپ اس طرح کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جن کے بارے میں آپ اس کے علاوہ سوچ بھی نہیں سکتے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فرض کریں ہمارا تجزیہ بتاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں تعمیراتی شعبہ ترقی کرے گے اور اس کی وجہ سے شیشے، سیمنٹ یا سٹیل کی کمپنیوں کو فائدہ ہو گا، تو کیا آپ فوری طور پر فیکٹری لگانے کے قابل ہوں گے، اگر آپ فیکٹری لگا بھی لیں تو آپ کو اسے قائم کرنے کے لیے کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے۔

’اس کے برعکس آپ کسی بھی سیمنٹ یا سٹیل بنانے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور اس معاشی ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘

معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والی صحافی اریبہ شاہد کا کہنا تھا کہ اگر سٹے کی سوچ سے سرمایہ کاری نہ کی جائے تو سٹاک مارکیٹ آپ کے لیے منافع بخش ہو سکتی ہے اور یہ سب آپ گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بروکر نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کاروبار کو سہارا دینے اور سرمایہ اکھٹا کرنے کا بھی ایک اچھا طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کاروبار کو سرمائے کی ضرورت ہے تو وہ سٹاک مارکیٹ کو اس مقصد کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے اور یہاں اندراج کروا کر اپنے حصص بیچ کر مزید سرمایہ اکھٹا کر سکتا ہے۔

تاہم بازارِ حصص میں کمپنی کا اندراج کروانا ہی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے اور ایس ای سی پی کی متعدد شرائط اور آئی پی او کرنے کے لیے بھاری فیس کے باعث یہ عمل اتنا آسان نہیں ہے۔

تاہم یہ تمام افراد ایک بات پر متفق تھے اور وہ یہ کہ بازارِ حصص میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے کمپنیوں کے بارے میں پڑھنے کی بہت ضرورت ہے۔

کمپنیوں سے متعلق دستاویزات ان کی ویب سائٹس پر موجود ہوتے ہیں اور ان کی جانب سے کی جانے والی بورڈ میٹنگز کی کارروائی سے متعلق معلومات بھی عام کی جاتی ہیں۔

سٹے بازی، متوسط طبقہ اور سٹاک مارکیٹ سے متعلق خدشات

کراچی سے تعلق رکھنے والے جس بروکر سے ہماری بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مارکیٹ مجموعی طور پر سٹے بازی کا بازار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اربوں ڈالر مالیت کی کمپنیوں کے ساتھ ایسا ممکن نہیں، ہاں کہیں ایسا ضرور ہوتا ہو گا لیکن اب 2007 یا 2008 جیسے دن بھی نہیں ہیں اور مارکیٹ میں قوانین انتہائی سخت ہو چکے ہیں۔‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک ٹریڈر کا کہنا تھا کہ ایسا چھوٹے پیمانے پر تو بالکل ہوتا ہے اور فوری ٹریڈنگ کرنے والے بھی ایسا کرتے ہیں لیکن آخر کار یہ مارکیٹ ایسا کرنے والوں کو اپنا آپ دکھاتی ہے اور انھیں مجموعی طور پر نقصان ہی ہوتا ہے۔

اریبہ شاہد کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ متوسط طبقے اور معاشی امور سے نابلد افراد کے لیے موزوں نہیں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اکثر ایسی معلومات جو ابھی کمپنی کی جانب سے عام نہیں کی جاتیں وہ کمپنی کے مالکان کے قریبی حلقوں کو معلوم ہو جاتی ہیں اور اس بات کا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اسی طرح جب ایسے افراد اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جو معاشی امور سے نابلد ہوں تو انھیں اکثر ٹریڈرز کی جانب سے بیوقوف بنایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اکثر ناتجربہ کاری کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

جب اس حوالے سے ایک ٹریڈر سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ’اگر ایمانداری سے جواب دوں تو میں کسی ایسے ہلکے سرمایہ کار پر اپنا وقت کیوں ضائع کروں گا۔‘

 

Comments

Popular posts from this blog

10 method of Earning

  💻 آن لائن پیسے کمانے کے 10 بہترین طریقے (اردو میں): 1. فری لانسنگ (Freelancing) آپ اپنی مہارت جیسے: گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، ترجمہ، آرٹیکل رائٹنگ، یا پروگرامنگ کے ذریعے کمائی کر سکتے ہیں۔ مشہور ویب سائٹس: Fiverr Upwork Freelancer 2. یوٹیوب چینل بنانا ویڈیوز بنائیں (تعلیم، مزاح، معلوماتی، ولاگز، ٹیوٹوریلز) اور اپلوڈ کریں۔ یوٹیوب پر آپ AdSense ، اسپانسرشپ، اور افیلیئیٹ مارکیٹنگ سے پیسے کما سکتے ہیں۔ 3. افیلیئیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing) مختلف برانڈز/کمپنیز کی مصنوعات یا سروسز کو پروموٹ کریں اور ہر فروخت پر کمیشن حاصل کریں۔ مشہور نیٹ ورکس: Amazon Affiliate Daraz Affiliate Program (پاکستان) ClickBank 4. آن لائن ٹیچنگ / ٹیوٹرنگ آپ بچوں یا بڑوں کو آن لائن تعلیم دے سکتے ہیں (مثلاً میتھ، انگلش، قرآن، کمپیوٹر، وغیرہ)۔ ویب سائٹس: Preply Cambly Superprof 5. بلاگنگ / آرٹیکل لکھنا اپنی ویب سائٹ یا بلاگ بنائیں، مفید مواد شئیر کریں اور گوگل ایڈسینس یا افیلیئیٹ سے پیسے کمائیں۔ بلاگنگ کے لیے WordPress یا Blo...

Trading

  ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ ٹریڈنگ ایک بنیادی اقتصادی تصور ہے جس میں اثاثہ جات کی خرید و فروخت شامل ہوتی ہے۔ ان میں مختلف اشیاء اور سروسز شامل ہو سکتی ہیں، جہاں خریدار، فروخت کنندہ کو معاوضہ ادا کرتا ہے۔ دیگر صورتوں میں، اس ٹرانزیکشن میں ٹریڈ کرنے والی فریقین کے مابین اشیاء و سروسز کا ایکسچینج شامل ہو سکتا ہے۔ مالی مارکیٹس کے سیاق و سباق میں، ٹریڈ کیے جانے والے اثاثہ جات  مالیاتی آلات  کہلاتے ہیں۔ ان میں اسٹاکس، بانڈز، Forex مارکیٹ میں موجود کرنسی کے جوڑے، آپشنز، Futures، مارجن پراڈکٹس، کرپٹو کرنسی، اور مزید بہت کچھ شامل ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اصطلاحات آپ کے لیے نئی ہیں، تو گھبرائیں مت – ہم بعد میں اس آرٹیکل میں ان تمام چیزوں کی تفصیل بیان کریں گے۔ ٹریڈنگ نامی اصطلاح عموماً قلیل مدتی ٹریڈنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جہاں ٹریڈرز نسبتاً مختصر مدت کے دوران پوزیشنز میں داخل ہوتے ہیں اور اس سے خارج ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ تصور کسی حد تک گمراہ کن ہے۔ در حقیقت، ٹریڈنگ سے مراد مختلف حکمت عملیوں کی ایک حد ہوتی ہے، جیسے کہ ایک روزہ ٹریڈنگ، سوئنگ ٹریڈنگ، رجحان پر مشت...

Data Entry

  ڈیٹا انٹری ورک  ہے جو آن لائن پیسہ کمانے میں اپنی قسمت آزمانے کے خواہشمند ہیں۔ اگر آپ بھی تیزی سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو ، یہاں آپ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ آپ ڈیٹا انٹری یا ٹائپنگ جیسی خدمات پیش کرسکتے ہیں۔ یہ کچھ عام خدمات ہیں جو فری لانسرز اور دوسروں کے ذریعہ فراہم کی جاتی ہیں جو فوری رقم آن لائن بنانا چاہتے ہیں۔ جب آپ ڈیٹا انٹری گیگ بنانے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس پر کل وقتی کام کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو گھر پر کام کرنے کو تیار رہنا چاہئے یہاں تک کہ جب آپ کے کنبے کے آس پاس نہ ہوں۔ اس طریقہ کے ساتھ ، آپ فی گھنٹہ. 30$ کما لیں گے۔ یقینی بنائیں کہ جب آپ ان خدمات کو پیش کرتے ہیں تو آپ تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکشن استعمال کرتے ہیں۔ براڈ بینڈ کنکشن لازمی ہے کیونکہ آپ کو جس شرح سے ادائیگی کی جاتی ہے اس کے متناسب ہے کہ آپ کا انٹرنیٹ کنیکشن کتنا تیز ہے۔ صارفین کو آپ کی ادائیگی میں آسانی کے لئے صارف کا نام اور صارف پروفائل تشکیل دیں۔ اس سے صارفین کو آپ کو ادائیگی بھیجنا آسان ہوجائے گا۔ صارف کے نام بتاتے وقت اپنی کمپنی کا نام استعمال نہ کریں۔ عنوان آپ کے کاروبار سے متع...